بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ روزنامہ 'جمہوری اسلامی' نے لکھا: سپاہ پاسداران کے بیان نمبر 46 میں آیا ہے: "جنگ کے میدان میں شکست خوردہ امریکہ پھر بھی دھوکے اور فریب کے ذریعے سانس لینے اور حملے کے لئے اپنی قوت رفتہ کی بحالی کا موقع تلاش کر رہا ہے اور حالیہ دنوں کے بیانات میں بارہا 'مذاکرات کی طرف واپسی' کی بات کر رہا ہے؛ لیکن بہرحال دشمن کو اپنی عہد شکنی کی قیمت چکانا ہوگی اور اس بار ہم امریکہ کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ مکارانہ چالبازیوں اور جعلی جنگ بندیوں کے ذریعے اپنے تیل اور اسلحے کے ذخائر کو ایک بار پھر بھر دے اور پھر بھی ایران حملوں کا آغاز کر دے۔"
یہ موقف عملاً سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے نئے بیانات کا سب سے اہم سیاسی پیغام ہے؛ ایسا پیغام جو اسلام آباد مفاہمت نامے کے تجربے سے جنم لیتا ہے؛ وہ مفاہمت نامہ جس پر دستخط کے بعد امریکہ نے اس کی خلاف ورزی کی اور وہ مفاہمت محض اسلحے کے ذخائر کی بحالی، افواج کی نقل و حرکت اور حملوں کے ازسرنو آغاز کا موقع بن گئی۔ اب بھی میدان کی صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ تنازعات کی عارضی روک تھام کے لئے نئی تجاویز، جنگ کے خاتمے کے مقصد سے نہیں، بلکہ واشنگٹن کو میدان میں مسلسل شکستوں کے دباؤ سے نکالنے کی کوشش کے طور پردی جا رہی ہیں۔
اس متن میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے حالیہ اطلاعیوں (شمارہ 44 تا 51) اور اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی مشترکہ کاروائیوں کا احاطہ کیا گیا ہے،اور اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
1۔ سیاسی پیغام: "جنگ بندی کا فریب" نامنظور
• ایران کا موقف ہے کہ امریکہ جنگ کے میدان میں شکست کھا کر عارضی جنگ بندیوں کے ذریعے اپنی قوت کی بحالی اور ذخائر کی تجدید چاہتا ہے۔
• اس بار ایران ایسی کسی جنگ بندی کو قبول نہیں کرے گا، کیونکہ اسلام آباد مفاہمت کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ نے اس موقع پر اپنی افواج کو دوبارہ منظم اور ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ بحال کر دیا اور پھر بھی جنگ کی طرف پلٹ گیا۔
• میدانی دباؤ ہی واشنگٹن کی پالیسی بدل سکتا ہے، اسی لئے وہ جارحیت اس وقت جاری رکھتا ہے جب تک کہ اس کے اخراجات ناقابل برداشت حد تک بڑھ نہیں جاتے اور وہ مجبور ہوکر اپنی حکمتِ عملی تبدیل نہ کرتا۔
2۔ فوجی کارروائیاں (کویت، بحرین، اردن)
• کویت میں فوجی اڈوں 'علی السالم' اور 'العدیری' کے اسلحہ گودام، پیٹریاٹ سسٹمز، ایم کیو-9 ڈرونز کے ہینگرز، ایندھن کے ٹینک، اور امریکی فوجیوں کی رہائش گاہیں نشانہ بنائی گئیں۔
• بحرین میں پانچویں امریکی بحری بیڑے کا کنٹرول ٹاور اور فیول ٹینک تباہ کئے گئے۔
• اردن میں الازرق ایئربیس میں پیٹریاٹ سسٹم، تھاڈ ریڈار، سی-ریم ریڈار، ایندھن کے ٹینک، اور ہیلی کاپٹروں کے ہینگروں کو نشانہ بنایا گیا۔
• امریکی جنگی طیاروں (ایف 15، پی 8، سی 17) اور 17 ڈرونز کو زمین پر تباہ کیا گیا۔
• ایرانی فوج نے بھی "آرش" ڈرونز کے ذریعے مختلف اڈوں پر کامیاب حملے کئے۔
3۔ آبنائے ہرمز اور معاشی دباؤ
• ایران نے آبنائے ہرمز میں حفاظت کو اپنی طاقت کے ذریعے کنٹرول کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
• امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران کوئی نقصان پہنچائے تو وہ ایرانی اثاثے (جو امریکہ کے پاس منجمد ہیں) ضبط کر کے معاوضہ لیں گے۔
• ایران کے وزیرخارجہ عراقچی نے اسے خطرناک قانونی روایت قرار دیا اور کہا کہ اس سے عالمی سطح پر سرمایہ کاری کی سیکیورٹی ختم ہو جائے گی۔
4۔ علاقائی ریاستوں کو علیحدہ پیغام
• ایران نے کویت اور اردن کی عوام سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، صرف امریکی مقبوضہ اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
• عوام کو متنبہ کیا گیا کہ وہ امریکی فوجیوں کی شہری عمارتوں میں چھپنے والی جگہوں سے 500 میٹر دور رہیں۔
5۔ برطانیہ کو پہلی بار براہِ راست وارننگ
• سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے برطانیہ کو خبردار کیا کہ اس کے اڈے (فیئرفورڈ) سے امریکی بی-1 بمبار طیارے ایران کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں، لہٰذا کوئی بھی اڈہ جو ایران کے خلاف استعمال ہو گا وہ ایرانی افواج کا جائز ہدف ہوگا۔
6۔ نتیجہ: جنگ کی نئی حکمتِ عملی
• مجموعی پیغام: ایران اب میدانی کارروائی کو سیاسی دباؤ کا حصہ بنا چکا ہے۔
• جب تک امریکہ اپنی پالیسیوں میں حقیقی تبدیلی نہیں لائے گا، کوئی عارضی جنگ بندی قبول نہیں کی جائے گی۔
• حملوں کا امتداد، آبنائے ہرمز کی بندش، اور علاقائی ریاستوں کو انتباہات؛ یہ تینوں اس نئی حکمتِ عملی کے ستون ہیں۔
آپ کا تبصرہ